اختلاف اگر مثبت ہوتو ترقی کی نئی راہیں کھولتاہے اور اگر اختلاف برائے اختلاف ہو تو معاشرے میں انتشار پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔ اختلاف میں دونوں فریقوں کی نظر دلیل پر ہوتی ہے اور مخالفت میں دونوں فریقوں کی نظر دوسرے کو بدنام کرنے پر ہوتی ہے۔ انسانی فطرت ہے جب ہمیں کوئی انسان بُرا لگتا ہے تو اِس کی ہر بات بُری لگتی ہے ۔
آج کل ہرطرف ایک ہی بات زیرِ بحث ہے کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صاحب توہین عدالت میں سزا کے بعد اہل ہیں یا نااہل ہیں( مزید لکھنے سے پہلے وزیراعظم کا الجزیرہ ٹی وی چینل کو انٹرویو کا ذکر کرنا چا ہو گا، وزیراعظم صاحب نے فرمایا تھا کہ اگر مجھے توہین عدالت میں سزا ہوگئی تومستعفی ہوجاﺅنگا)۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پورے ملک میں لفظوں کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ گئی ہے۔ حکومتی اور حزبِ اختلاف کے اراکین ا ہلیت اور نا اہلی کے حوالے سے اپنا اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔ اخباروں میں حریف سیاستدانوں کے ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات شائع ہورہے ہیں ایک دوسرے کے خلاف انتہا پسندی عروج پر جا پہنچی۔ وہ سیاستدان، رہنماءاور ہوتے ہیں جو پیچیدہ آئینی مسائل میں ایک دوسرے کی مدد اور رہنمائی کرتے ہیں۔ آوے کا آوے ہی پٹری سے اُترا ہوا ہے۔ حکومت اپنے وکلاءکے دلائل سے مطمئن ہیں کہ وہ آ ئین کی پیروی پر عمل پیرا ہیں ، مخالفین اپنے وکلاءکی آراءسے مطمئن ہیں کہ یوسف رضا گیلانی صاحب وزیراعظم کے عہدے کے لیے نااہل ہوچکے ہیں اور اُن کا دورہ برطانیہ بھی اب غیر آئینی تھا۔ دانشور، تجزیہ کار بھی آئین کی مختلف قسم کی تشریح کر رہے ہیں اور اینکرپرسن بھی مختلف سوالات اُٹھا رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس ہم آج تک کسی نقطے پر اتفاق نہیں کرسکے۔ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ابہام مزید بڑھتا جارہا ہے ، اب اسپیکر قومی اسمبلی کے آئینی اختیار کے حوالے سے گفتگو بھی ہورہی ہے آیا اسپیکر صاحبہ وزیراعظم کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ریفرنس ارسال کرینگی یاپھر پارٹی وابستگی کی بناءپر مزید کوئی نئی تشریح سامنے لائے گی۔ سیاسی تماشہ اپنی پوری آب و تاب سے جاری ہے ، حیران کُن بات یہ ہے کہ صبح و شام آئین بنانے اور آئین کو اصل شکل میں بحال کرنے کے دعوےدار بھی کوئی واضح تشریح بیان نہیں کرسکے اگر این ار او کیس میں حکومت صدرِپاکستان کو آئینی استثنی سے متعلق ٹھوس دلائل کے ساتھ اپنا موقف پیش کردیتی تو شاید بات یہاں تک نہیں پہنچتی اور مسقبل میں بھی ایک مثبت مثال قائم ہوجاتی مگر اِس کھیل کے اپنے تقاضے ہیں ، خاص کر وطنِ عزیز میں سیاست کا کھیل بڑا ہی بھیانک کھیل کھیلا جارہا تا ہم نہ جانے انجام کیا ہوگا۔ غضب خدا کادس لوگ آئین پاکستان کی تشریح کرتے ہیں مگر اتفاق نظر نہیں آتاہر شخص اپنے مفاد کی بات کرتا نظر آتا ہے۔ چونسٹھ سال اختلاف اور نظریہ ضرورت کے سہارے گزر گئے آئینی، قانونی، سیاسی اور مذہبی اختلاف ہمیشہ وطنِ عزیز میں رہا ہے کسی بھی معاملے یا مسئلہ پر اتفاق نظر نہیں آیا۔ ہم آج تک اِس بات کا تعین نہیں کرسکے کہ پارلیمنٹ بالادست ہے یا اعلیٰ عدلیہ! ہم آج تک اس بحث میں ہیں کہ آئین کی واضح تشریح کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے یا اعلیٰ عدلیہ کو!ہم آج تک ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا آئین میں دیئے گئے طریقہ کار نہیں جان سکے۔ ہم آج تک ملک کے تمام اعلیٰ اختیاری اور ریاستی اداروں کے دائرہ اختیار کی پیمائش نہیں کرسکے، روز ایک نئی بحث جنم لیتی ہے اوربے نتیجہ ختم ہوجاتی ہے کیوں کہ ہمارے ہاں بحث برائے بحث اورذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہوتی ہے کیونکہ اختلاف ہی ہمارا بنیادی حدف ہوتاہے ۔ اختلاف کی بدولت معاشرے کے مختلف عناصر میں باہمی عداوتیں پرورش پاتی ہیں۔ اس اختلافی مسائل سے عوام دھوکے اور فریب میں مبتلا ہوتے ہیں اور صحیح رائے قائم نہیں کرسکتے۔ کسی معاشرے میں اِس سے بڑھ کر کوئی نقصان دہ چیز نہیں ہوسکتی کہ اِس میں جب بھی کسی کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ جنگ میں سب کچھ حلال ہے کا ابلیسی اصول اختیار کرے، اِس پر ہر طرح کے جھوٹے الزامات لگائے، اِس کی طرف جان بوجھ کر غلط باتیں منسوب کرے اِس کے نقطہ نظر کو قصداً غلط صورت میں پیش کرے۔ سیاسی اختلاف ہوتو اِسے غدار اور دشمن وطن ٹہرائے، بحیثیت پوری قوم کا نقصان ہے۔ جس سے بالآخر خود وہ لوگ بھی نہیں بچ سکتے جو اختلاف کے اِس بیہودہ طریقے کو مفید سمجھ کر اختیار کرتے ہیں۔
مزید رونے کو دِل جب کرتا ہے کہ اِسی قسم کی بحث اور اختلاف میں ہم نے اپنے مذہب اسلام کو بھی جھکڑ لیا ہے ۔ ہم آج تک اسلامی مہینے اور مذہبی تہوار کے حوالے سے چاند کی تاریخ کا تعین نہیں کرسکے، شاید ہی اِس ملک کے مسلمانوں نے کبھی رمضان، عید اور بقرعید باہمی ہم آہنگی سے منائی ہو۔ معاشرے کے دیگر شرعی مسائل پر بھی ہمارے علماءکرام کی آرءمختلف نظر آتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل پر پروگرام نشر ہوا کہ شہر کراچی میں گدھے کے گوشت فروخت جاری ہے ، اس حوالے سے کہ گدھے کا گوشت حرام ہے یا حلال ہے، مختلف مسلک کے علماءکرام سے رائے لی گئی تو سب کا مو قف میں تضاد نظر آیا کچھ نے کہا حلال ،توکچھ نے کہا حرام۔ یہ واقعی سوچنے کی با ت ہے کہ مذہبی اختلاف اور منافرت کی بنیاد پر جید علماءقتل کر دیئے گئے جو دین کے علاوہ امن، محبت اور خدمت کا درس دیتے تھے۔ کسی بھی علماءکا قتل قتلِ عالم سے مترادف ہے۔
او لین چیز جس پر ملک کے تمام مختلف الخیال گروہوں اور اشخاص کو اتفاق کرنا چاہئے، وہ ہے صداقت اور باہمی انصاف۔ اختلاف اگر ایمانداری کے ساتھ ہو، دلائل کے سا تھ ہواور اِسی حد تک رہے، جس حد تک فی الواقع اختلاف ہے تو اکثر حالات میں یہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس طرح مختلف نقطہ نظر اپنی صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے آجاتے ہیں اور لوگ انہیں دیکھ کر خود رائے قائم کرسکتے ہیں کہ وہ اِن میں سے کس کو قبول کریں ۔ بد قسمتی سے نہ رواداری اور بدگمانی اور خودپسندی کا یہ مرض ہمارے ملک میں ایک وبائے عام کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس سے بہت ہی کم لوگ بچے ہوئے ہیں۔ حکومت اور اِس کے ارباب اختیار مبتلا ہیں، سیاسی پارٹیاں اِس میں مبتلا ہیں، مذہبی گروہ اِس میں مبتلا ہیں، اخبار نویس اِس میں مبتلا ہیں حتیٰ کہ بستیوں اور محلوں اور دیہات کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں تک میں اِس کے زہریلے اثررات اتر گئے ہیں۔ اِس کا مداوا صرف اِس طرح ہوسکتا ہے کہ سب سے پہلے وہ لوگ جو اپنے اپنے حلقوں میں اثر رکھتے ہیں، اپنی ذہنیت تبدیل کریں اور خود اپنے طرز عمل سے لوگوں کو تحمل، برداشت اور وسعت ظرفی کا سبق دیں۔
Imran bhai article baut acha hai, likin aap tu jantay hain k aaj kal hamaray mulk mai Jamboryat hai issmay itefaq aur ikhtelaf nai hoga tu kiya aamriyat mai hoga, waisay sachi baat tu yeh hai ke pehlay log ayub ka daur yaad kartay the, aur aaj kal musharraf ka, kiyo k Jamboriyat hamari seedi saadi awam ko shayad raas nai.
Thanks for your comments and welcome, lekin mainy apny topic main jomhoriyat ya aamiriat discuss nahi kiya. Kun k ilktilaf or ittifaq zindagi ka hissa hai or both zaroori hai , but I request you kindly must read first paragraph of my article
Imran bhai article baut acha hai, likin aap tu jantay hain k aaj kal hamaray mulk mai Jamboryat hai issmay itefaq aur ikhtelaf nai hoga tu kiya aamriyat mai hoga, waisay sachi baat tu yeh hai ke pehlay log ayub ka daur yaad kartay the, aur aaj kal musharraf ka, kiyo k Jamboriyat hamari seedi saadi awam ko shayad raas nai.
Dear abbas,
Thanks for your comments and welcome, lekin mainy apny topic main jomhoriyat ya aamiriat discuss nahi kiya. Kun k ilktilaf or ittifaq zindagi ka hissa hai or both zaroori hai , but I request you kindly must read first paragraph of my article
Well Done Dear, these problems are going very seriously in our country. keep it up, a good struggle.
Best Regards.
keep it up